سورت کا نام: اس سورت کا نام سورۃ الفتح ہے۔
آیات بینات کی تعداد: سورۃ الفتح کی آیات بینات کی تعداد (29) انتیس ہے۔
رکوعات کی تعداد: سورۃ الفتح کے رکوعات کی تعداد (04) چار ہے۔ مقام نزول: سورۃ الفتح کا نزول مدینہ منورہ میں ہوا۔ اس لیے یہ مدنی سورت ہے۔
زمانہ نزول: یہ سورت چھ ہجری میں صلح حدیبیہ سے واپسی پر نازل ہوئی۔ جب نبی کریمؐ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ مدینہ منورہ واپس تشریف لا رہے تھے۔
وجہ تسمیہ: سُورَةُ الْفَتْحِ کا نام اس کی پہلی آیت إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا "اے نبی مکرمؐ بے شک ہم نے آپکو کھلی فتح عطا کی" میں لفظ فَتْحًا کی نسبت سے ہے۔
شان نزول: ہجرت کے چھٹے سال مسلمان عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے۔ مگر مشرکین مکہ کی ضد کی وجہ سے مسلمانوں کو مقام حدیبیہ پر رکنا پڑا۔ اور عمرہ ادا نہ کر سکے۔ اس مقام پر مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا۔ جسے صلح حدیبیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ صلح حدیبیہ سے واپسی پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے دل عمرہ نہ کرپانے کی وجہ سے رنجیدہ تھے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفتح نازل فرمائی۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غمزدہ دل کو تسلی دیتے ہوئے اس معاہدے کو فتح مبین قرار دیا۔
فضیلت: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۃ الفتح کی ابتدائی آیات سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت مبارکہ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "مجھ پر ایک ایسی آیت نازل کی گئی ہے جو مجھے پوری دنیا سے زیادہ محبوب ہے"۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا "اے ابن خطاب آج رات مجھ پر ایک ایسی سورت نازل ہوئی جو مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورہ نکلتا ہے اور وہ سورت یہ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا (سورۃ الفتح)
مرکزی موضوع: اس سورت میں "صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ان کی عظمت اور منافقین کی مذمت بیان کی گئی ہے"۔
فتح مبین کا ذکر: سورۃ الفتح کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے فتح مبین کا ذکر فرمایا ہے۔ فتح مبین سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ جو فتح مکہ کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ چھ ہجری میں مسلمان عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے۔ مگر مشرکین مکہ کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے مسلمانوں کو مقام حدیبیہ پر روک دیا گیا اور عمرہ ادا کرنے سے روکا گیا اس مقام پر مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا۔ جسے تاریخ میں صلح حدیبیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی: عمرہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے صلح حدیبیہ سے واپسی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے دل رنجیدہ اور غمزدہ تھے۔ سورۃ الفتح میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غمزدہ دل کو تسلی دیتے ہوئے اس معاہدے کو فتح مبین قرار دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی نعمت مکمل کرنے کا اعلان فرمایا۔ صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھنے اور اپنی مکمل حمایت اور مدد کا وعدہ فرمایا۔
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے لیے خوشخبریاں: صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے بارے میں بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں سکون اور اطمینان داخل فرمایا اور جنت میں داخلے کی خوشخبری سنائی۔
منافقین کے انجام کا ذکر: منافقین سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا غضب اور دوزخ کی آگ ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات عالیہ کا تذکرہ: سورۃ الفتح میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شاہد گواہی دینے والا مبشر خوشخبری سنانے والا نذیر ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
مسلمانوں کو نصیحت: اہل ایمان کو نصیحت کی گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد، تعظیم اور عزت کریں۔
بیعت رضوان کا ذکر: صلح حدیبیہ کے موقع پر جب افواہ پھیل گئی کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کر دیا ہے تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بدلہ لینے کی بیعت فرمائی۔ جسے تاریخ میں بیعت رضوان کہا گیا ہے۔ سورۃ الفتح میں اللہ تعالیٰ نے بیعت رضوان کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اہل ایمان سے محبت کا اظہار فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ سب بیعت کرنے والے ہاتھوں کے اوپر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اپنی دائمی رضامندی کا اعلان فرمایا۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو مزید فتوحات اور غنیمتوں کی خوشخبریاں دی گئیں۔ مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ضرور تمہیں اس حرمت والے گھر میں داخل فرمائے گا۔ صلح حدیبیہ کے دو سال بعد ہی مکہ فتح ہو گیا تھا۔
منافقین کے رویے کا ذکر: سورۃ الفتح میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کا رویہ بیان کرتے ہوئے ان پر اپنی ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کا حال بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ یہ منہ سے کچھ کہیں گے جبکہ ان کے دلوں میں کچھ اور ہو گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب خیبر کی طرف جائیں گے تو یہ منافقین جہاد پر ساتھ جانے کی اجازت لیں گے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ساتھ جانے سے روک دیں۔
تائید الہی: سورۃ الفتح میں فتح مکہ کے موقع پر کفار مکہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر حملہ کرنے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی حفاظت کا ذکر ہے۔ چند کفار مکہ نے ایک مقام پر موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر حملہ کر دیا۔ جس کے متعلق حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر حملہ آور ہونے کے لیے (80) اسی کافر تنعیم کے پہاڑ سے نماز فجر کے وقت اترے۔ وہ چاہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (نعوذ باللہ) شہید کر دیں۔ مگر سب کے سب پکڑے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ نازل فرمائی۔
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی صفات کا بیان: سورۃ الفتح کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی صفات اور کردار کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ: 1): یہ کافروں کے لیے سخت ہیں آپس میں مہربان ہیں۔ 2): رکوع اور سجدہ کرنے والے ہیں۔ 3): ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے طالب ہیں۔ 4): ان کی پیشانیوں پر بہت زیادہ سجدے کرنے کی وجہ سے نشان ہیں۔ 5): ان کی یہ تعریفیں تورات مقدس اور انجیل مقدس میں بھی بیان کی گئی ہیں۔