سورت کا نام: اس سورت کا نام سورۃ محمد اور سورۃ القتال ہے۔ آیات بینات کی تعداد: سورہ محمد کی آیات بینات کی تعداد (38) اڑتیس ہے۔
رکوعات کی تعداد: اس سورت کے رکوعات کی تعداد (04) چار ہے۔ مقام نزول: سورہ محمد کا مقام نزول مدینہ منورہ ہے۔
زمانہ نزول: سورہ محمد مدنی زندگی کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی۔
وجہ تسمیہ: اس سورت کا نام محمد اس کی دوسری آیت مبارکہ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ سے ماخوذ ہے۔
دوسرے نام کی وجہ تسمیہ: جبکہ اس سورت کا دوسرا نام اس وجہ سے ہے کہ اس سورت میں جہاد و قتال کے احکام بیان ہوئے ہیں جس وجہ سے اس سورت مبارکہ کو القتال کہا جاتا ہے جو کہ اس سورت کی آیت نمبر 20 (وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ) سے ماخوذ ہے۔
مرکزی موضوع: سورۃ محمد کا مرکزی "موضوع جہاد و انفاق فی سبیل اللہ کے ترغیب اور کفار و منافقین کے انجام کا بیان ہے"۔
کفار و مسلمان کے کردار و عقیدہ کا تقابل: سورۃ محمد کے آغاز میں کفار کے عقیدہ اور کردار کا مسلمانوں کے کردار و عقیدہ سے تقابل کیا گیا ہے
کفار کا عقیدہ و کردار: کفار کے بارے میں ارشاد ہے کہ یہ نہ صرف خود کفر کرتے ہیں بلکہ لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں چنانچہ باطل کی پیروی کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال ضائع کر دیے ہیں۔
مسلمانوں کے عقیدہ و کردار کا ذکر: کفار کے مقابلے میں اہل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اہل ایمان اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ نیک اعمال بجا لاتے ہیں۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی برائیوں کو مٹا دیا اور ان کے احوال کی اصلاح فرما دی ہے۔
اہل ایمان کو ہدایات: سورت محمد کی متعدد آیات میں اہل ایمان کو مختلف ہدایات دی گئی ہیں۔ اہل ایمان کو انفاق و جہاد فی سبیل اللہ، اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔
شہداء کی فضیلت: مجاہدین اور صابرین کی آزمائش کرنے کا تذکرہ کرتے ہوئے شہداء کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید و قتل کر دیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو ضائع نہیں فرمائے گا اور انہیں ضرور جنت میں داخل فرمائے گا۔
ایمان اور تقویٰ اختیار کرنے پر بشارت: ایمان اور تقویٰ اختیار کرنے پر اجر و ثواب کی بشارت دی گئی ہے۔ اہل ایمان کے لیے جنت کی نعمتیں بیان کی گئی ہیں کہ ایسی جنتیں ہیں کہ جن میں پانی، دودھ، پاکیزہ شراب اور شہد کی نہریں بہتی ہوں گی اور انہیں وہاں تازہ پھل عطا کیے جائیں گے۔ اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش ہو گی۔
کفار کو تنبیہ: اس سورت میں کفار کو قرآن مجید کا انکار کرنے کی وجہ سے اعمال کے ضائع ہونے اور ہلاک کر دیے جانے کی تنبیہ کی گئی ہے۔ ان کو کائنات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے کہ وہ سب نافرمان اقوام کی تباہ شدہ بستیوں کو دیکھ کر ان سے عبرت حاصل کریں۔ فرمایا گیا ہے کہ کفار کی زندگی کچھ دن جانوروں کی طرح کھانے پینے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت سے محروم ہونے کی وجہ سے ان کی اہل ایمان کے مقابلے میں کوئی تدبیر کام نہیں آئے گی۔ وہ دنیا اور آخرت میں برے انجام سے دوچار ہوں گے۔ ہمیشہ کے لیے آگ میں رہیں گے۔ جہاں انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا۔
منافقین کا ذکر: اس سورت میں منافقین کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جب انہیں دین کے لیے کسی عملی کام کا حکم دیا جاتا ہے تو ان کے حوصلے پست ہو جاتے ہیں۔ گویا ان پر موت کی غشی طاری ہو جاتی ہے۔ حالانکہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم نازل ہو تو اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اور اسی میں ان کی بھلائی ہے۔
ثابت قدمی کی تلقین: مسلمانوں کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ اپنی قلت تعداد اور بے سر و سامانی کی صورت میں ہمت نہ ہاریں۔ کفار کے آگے صلح کی پیشکش کر کے کمزوری کا اظہار نہ کریں۔ اللہ کے بھروسے پر اٹھیں اور کفر کے اس پہاڑ سے ٹکرا جائیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ساتھ ہے وہی غالب رہیں گے۔
انفاق فی سبیل اللہ کی دعوت: سورت کے آخر میں مسلمانوں کو انفاق فی سبیل اللہ کی دعوت دی گئی ہے۔ اگرچہ اس وقت مسلمانوں کی حالت بہت کمزور تھی۔ لیکن کفر کا مقابلہ کرنے کے لیے مالی وسائل لگانا بھی ضروری ہے۔ اس لیے مسلمانوں سے فرمایا گیا کہ اس وقت جو شخص بھی بخل سے کام لے گا وہ دراصل اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا بلکہ خود اپنے آپ کو ہی ہلاکت میں ڈالے گا۔
مؤمنوں کے لیے انعام: اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ (سورۃ محمد: 12) ترجمہ: بے شک اللہ داخل فرمائے گا انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ (سورۃ محمد: 33) ترجمہ: اے ایمان والو اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور اپنے اعمال ضائع مت کرو۔