زمانہ نزول: یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب مسلمان مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ گئے تھے، مگر یہاں کے کفار و منافقین کے ہاتھوں انھیں بہت سی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں سب سے پہلے غزوہ بدر پیش آیا، جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غیر معمولی فتح عطا فرمائی۔ جس میں کفار کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔ اسی شکست کا بدلہ لینے کیلئے اگلے سال انھوں نے مدینہ منورہ پر حملہ کر دیا اور غزوہ احد پیش آیا۔ اس سورت میں ان دونوں غزوات کا ذکر تفصیلی طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اور ان غزوات سے متعلق مسائل اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے قیمتی آراء سے بھی نوازا گیا ہے۔ غزوہ احد کا ذکر زیادہ تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اور اس کے علاوہ عیسائیوں کے وفد بنو نجران کے ساتھ مباہلہ کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
شان نزول: مفسرین نے لکھا ہے کہ نجران کے نصاریٰ کا ایک وفد مدینہ منورہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جو ساٹھ افراد پر مشتمل تھا۔ یہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مناظرہ کرنے لگے تو ان کے عقائد باطلہ کے رد میں سورۃ آل عمران کی ابتدائی اَسی (80) سورتیں نازل ہوئی ہیں۔
وجہ تسمیہ: "آل عمران" کا مطلب ہے "عمران کا خاندان" عمران حضرت مریم علیہ السلام کے والد کا نام ہے۔ حضرت مریم علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں جو نہایت فضیلت والی خاتون ہیں۔ اس سورت کی آیت نمبر تینتیس تا سینتیس میں اس خاندان کا ذکر آیا ہے، اسی مناسبت سے اس سورت کا نام آل عمران رکھا گیا ہے۔
اضافی نام: سورت آل عمران کے اس علاوہ دو اور نام بھی ہیں جو کہ "زہرا" اور "امان" ہیں۔
سورۃ آل عمران کی فضیلت: سورۃ آل عمران کا آغاز حروف مقطعات سے ہوا ہے، حروف مقطعات وہ حروف ہیں جن کے معانی اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور نبی محمد ﷺ جانتے ہیں۔
فرمان رسول ﷺ: "دو روشن سورتوں سورۃ البقرۃ اور سورۃ آل عمران کو پڑھا کرو کیونکہ یہ دونوں قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے بادل ہوں یا جیسے پرندوں کی دو صف بستہ جماعتیں ہوں۔ یہ اپنے پڑھنے والوں کے لیے شفاعت کریں گی"۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں جو شخص سورۃ البقرۃ اور سورۃ آل عمران کا عالم ہوتا تھا اسے بہت اہمیت اور عزت دی جاتی تھی"۔
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں "میں نبی ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا سورۃ البقرۃ سیکھو، اس کی تعلیم حاصل کرنا باعث برکت ہے اور اسے چھوڑنا حسرت ہے، باطل اس پر غالب نہیں آسکتا، پھر آپ ﷺ کچھ دیر کیلئے ٹھہر گئے اور پھر فرمایا سورۃ البقرۃ اور سورۃ آل عمران سیکھو یہ دونوں چمک دار اور خوب صورت ہیں، یہ روز قیامت اپنے پڑھنے والوں کو اس طرح ڈھانپ لیں گی جیسے دو بادل ہوں یا دو سایہ دار چیزیں پر پھیلائے ہوئے پرندوں کی دو غول کی طرح ہوں"۔
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "جو شخص سورۃ آل عمران کی آخری آیات پڑھے گا تو اس کیلئے پوری رات عبادت کرنے کا ثواب لکھا جائے گا"۔
حضرت مکحول رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں "جو شخص جمعہ کے دن سورۃ آل عمران کی تلاوت کرتا ہے تو رات تک فرشتے اس کیلئے دعائیں کرتے ہیں"۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا "اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے" وَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ لَّا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ (۱۶۳) اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ (۲) (سنن ابوداؤد: 1496)
مباہلہ کا پس منظر: مباہلہ کا پس منظر یہ ہے کہ عرب کے علاقے نجران میں نصاریٰ بڑی تعداد میں رہتے تھے۔ ان کا ایک وفد نبی کریم ﷺ کے پاس مدینہ منورہ آیا۔ یہ وفد ساٹھ افراد پر مشتمل تھا جن میں چودہ بڑے سردار تھے اور ان سرداروں میں بھی تین ان کے بڑے سردار تھے۔ ان کی دینی اور دنیاوی معاملات وہی تین سردار دیکھا کرتے تھے۔ یہ وفد اعلان نبوت سن کر نبی کریم ﷺ کے پاس مناظرہ کرنے کی غرض سے آیا تھا۔ اس وفد نے بارگاہ رسالت میں اپنے گمراہ کن عقائد پر دلائل دینے شروع کر دیے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے تمام اعتراضات سن کر ایک ایک دلیل کو رد فرمایا جس سے وہ لاجواب ہو گئے۔
آیت مباہلہ / مباہلہ کرنے کا حکم: اللہ تعالیٰ نے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر اکسٹھ (61) میں نبی کریم ﷺ کو ان سے مباہلہ کرنے کا حکم دیا۔ مباہلہ کا معنی ہے کہ کسی عقیدہ کے بارے میں مختلف آراء رکھنے والے لوگ نہایت عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے دربار میں دعا کرتے ہیں کہ ان میں سے جو جھوٹا ہو اس پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی لعنت ہو۔
پادریوں کا مباہلہ کرنے سے انکار: مباہلہ کا حکم ہونے کے بعد حضرت محمد ﷺ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ، حضرت سیدۃ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو لے کر نجران کے وفد کے پاس مباہلہ کیلئے تشریف لائے۔ جب پادریوں نے ان کے روشن چہروں کو دیکھا تو ان کے سردار پادریوں نے وفد کو تنبیہ کی کہ اگر تم ان سے مباہلہ کرتے ہو تو یاد رکھو تمہارا نام و نشان تک مٹا دیا جائے گا، جس پر انہوں نے مباہلہ سے انکار کیا اور جزیہ دینے کیلئے تیار ہو گئے۔
مباہلہ کرنے والوں کیلئے نبی ﷺ کا فرمان: “قسم ہے اس کریم ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا عذاب اہل نجران کے نزدیک آچکا تھا اگر یہ مباہلہ کرتے تو انھیں جانور بنا دیا جاتا اور ان کی وادی میں ایسی آگ بھڑکتی کہ انھیں ملیا میٹ کر دیتی یہاں تک کہ درختوں پر پرندے بھی ہلاک ہو جاتے اور سال ختم ہونے سے پہلے سارے نصاریٰ موت کے گھاٹ اتار دیے جاتے”۔
دوسرا بڑا جنگی معرکہ: غزوہ احد مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان لڑا جانے والا دوسرا بڑا معرکہ تھا۔
غزوہ احد کا محل: یہ غزوہ سات شوال المکرم تین ہجری بروز ہفتہ کو مدینہ منورہ کے قریب میں اُحد نامی پہاڑ کے پاس برپا ہوا۔
غزوہ کی قیادت: اس غزوہ میں مسلمانوں کی طرف سے نبی محمد ﷺ نے خود لشکر کی کمان سنبھالی جبکہ مشرکین مکہ کا سردار ابو سفیان تھا۔
تعداد لشکر مجاہدین: اس غزوہ میں مسلمان مجاہدین کی تعداد ایک ہزار سے بھی کم تھی، لیکن ان کی ہمت و حوصلے بلند تھے۔
مشرکین جنگجوؤں کی تعداد: اس غزوہ میں مشرکین کی تعداد تین ہزار پر مشتمل تھی جو بھرپُور تیاری کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ آور ہوا تھا۔
لشکر کی روانگی: مسلمانوں کا لشکر تین ہجری بروز جمعہ، نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد حضرت محمد ﷺ کی قیادت میں مشرکین مکہ کا مقابلہ کرنے کیلئے مقام اُحد کی طرف روانہ ہوا۔
منافقین کا کردار: منافقین کے سردار عبداللہ بن اُبی نے مدینہ سے باہر جا کر لڑنے کو بہانہ بنا کر اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر مسلمانوں کے لشکر سے الگ ہو گیا۔ جس پر اس نے یہ اعتراض کیا کہ مدینہ شہر کے اندر رہ کر جنگ کرنے کا مشورہ کو نہیں مانا گیا۔ جس پر مسلمانوں کے لشکر کی تعداد اور بھی کم ہو گئی۔
لشکروں کا آمنا سامنا: تین ہجری سات شوال المکرم کو دونوں لشکر جبل اُحد کے پاس آمنے سامنے ہوئے۔
تیر اندازوں کی تقرری: نبی کریم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں پچاس تیر اندازوں کو اُحد کے پہاڑ کے ایک درّے پر مقرر کیا تاکہ دشمن اس طرف سے حملہ آور نہ ہو سکے۔ اور تیر انداز مجاہدین کو تاکید فرمائی کہ جب تک آپ کو حکم نہ ملے اس وقت تک آپ نے اس درّے کو خالی نہیں چھوڑنا۔
معرکہ کا آغاز: عرب کے دستور کے مطابق کفار کا عَلَم بردار طلحہ صف سے آگے آیا اور اس نے مقابلے کیلئے للکارا۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے کیلئے صف سے آگے نکلے اور اسے جہنم واصل کیا۔ جس پر طلحہ کا بیٹا انتقام کے جوش میں آگے بڑھا جس کو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے قتل کر دیا۔
کفار کی شکست: جیسے ہی عام لڑائی شروع ہوئی تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو دُجانہ رضی اللہ عنہ دشمن کی فوج میں گھس گئے اور کفار کو خوب قتل کیا، لڑائی کے شروع میں مسلمان کفار پر غالب آنے لگے جسے دیکھتے ہوئے کافر میدان جنگ کو چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ جس پر مسلمانوں نے سمجھا کہ مسلمان جنگ جیت گئے ہیں۔
مسلمانوں کا غلط گمان: جب کفار میدان کو چھوڑ کر بھاگنے لگے اور مسلمانوں نے سمجھا کہ وہ فاتح قرار پائے ہیں تو اسی صورت حال میں درّے پر موجود مجاہدین کی جماعت میں سے چند مجاہدین اس گمان سے واپس آگئے کہ اب مسلمان جنگ جیت چکے ہیں۔
دشمن کا حملہ: جب چند مجاہدین درّے کو چھوڑ آئے تو مشرکین نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے مسلمانوں پر دوبارہ حملہ کر دیا۔ جس پر مسلمانوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔
نبی ﷺ کی شہادت کی افواہ: مشرکین کے دوبارہ حملہ آور ہونے سے نبی کریم ﷺ کے دندان مبارک شہید ہو گئے اور آپ ﷺ کا چہرہ مبارک زخمی ہو گیا۔ جس پر نبی کریم ﷺ کی شہادت کی افواہ پھیلا دی گئی کہ معاذاللہ حضرت محمد ﷺ کو شہید کر دیا گیا ہے۔
مسلمانوں میں خوف و حراس: نبی کریم ﷺ کی شہادت کی افواہ سے مجاہدین اسلام میں نبی ﷺ کی شہادت کے خوف کی لہر دوڑ گئی جس سے مسلمانوں کے حوصلے کم پڑ گئے۔
مجاہدین کی ثابت قدمی: جس وقت میں نبی کریم ﷺ کی شہادت کی افواہ پھیلائی جا رہی تھی اسی اثناء میں جانثار مجاہدین نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہمت و ثابت قدمی سے مشرکین کے ساتھ جہاد میں مصروف تھے۔
مسلمانوں کی ہمت و بہادری: مسلمانوں کو جب پتا چلا کہ نبی کریم ﷺ کی شہادت کی افواہ تھی تو تمام مجاہدین نے ثابت قدمی کے ساتھ دوبارہ ڈٹ کر مشرکین کا مقابلہ کیا۔
کفار کو شکست: مجاہدین کی اس ہمت و بہادری کو دیکھ کر کافروں نے لڑائی سے پیچھے ہٹ جانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی اور میدان جنگ کو چھوڑ کر مکہ مکرمہ واپس بھاگ گئے۔
مجاہدین شہداء کی تعداد: غزوہ اُحد میں مسلمان مجاہدین میں سے ستر (70) مجاہدین نے جام شہادت نوش کیا۔
سید الشہداء: شہید مجاہدین میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ جنھیں نہایت بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا تھا جس پر نبی کریم ﷺ نے انھیں سید الشہداء کا خطاب دیا۔
حکم نبی کریم ﷺ کی اہمیت: اس غزوہ میں یہ بات عملی طور پر عیاں ہو گئی کہ رسول کریم ﷺ کے حکم کو فراموش کرنے اور نظم وضبط ترک کرنے سے کتنا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔