گیارہویں جماعت کے لیے

سُورَةُ الْبَقَرَة

پارہ 01 آیات 286 رکوع 40 مدنی

تعارف

خصوصیات: سورۃ البقرۃ قرآن مجید کی سب سے لمبی سورت ہے۔ یہ مدینہ منورہ میں نازل ہونے والی پہلی سورت ہے۔ اس سورت میں سب سے زیادہ احکامات ربی کا ذکر ہے۔ یہ سورتوں کی ترتیب کے لحاظ سے دوسری سورت ہے۔ اس سورت کا زیادہ تر حصہ ہجرت مدینہ کے بعد بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوا تھا۔

حروف مقطعات: سورۃ البقرۃ حروف مقطعات میں سے الٓمّٓۚ سے شروع ہوتی ہے۔ (حروف مقطعات سے مراد ایسے حروف ہیں جن کے معانی اللہ رب العزت اور نبی حضرت محمد ﷺ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا)

وجہ تسمیہ: سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر سڑسٹھ (67) سے لے کر آیت نمبر (73) تہتر تک ایک گائے کا واقعہ بیان ہوا ہے جسے بنی اسرائیل کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ عربی زبان میں "گائے" کو بقرۃ کہتے ہیں۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ البقرۃ رکھا گیا ہے۔

واقعہ کی حکمتیں: اس واقعہ سے بہت سی حکمتوں کا پتہ چلتا ہے جن میں سے ایک یہ کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ انسانوں کے مر جانے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ یہ واقعہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں بنی اسرائیل کی ایمانی اور اخلاقی پستی کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

پس منظر: حضرت محمد ﷺ جب ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہ سورت نازل ہوئی۔ مدینہ منورہ میں اب جن لوگوں کو دعوت حق دی جا رہی تھی یہ لوگ مکہ مکرمہ کے لوگوں سے بالکل مختلف تھے۔ یہاں دعوت اسلام جس بنیاد سے دی جا رہی تھی اس کی ضروریات و تقاضے بھی مختلف تھے۔ ہجرت سے پہلے جب تک دعوت اسلام مکہ مکرمہ میں دی جاتی رہی تب خطاب بھی مشرکین عرب سے تھا جن کے لیے اسلام ایک نئی اور ایک انجانی آواز تھی۔ ہجرت کے بعد یہاں یہودیوں سے واسطہ پڑا جن کی بستیاں مدینہ منورہ کے ساتھ آباد تھیں۔ یہ لوگ توحید، رسالت اور آخرت و وحی کے قائل تھے۔ اس ضابطہ کو تسلیم کرتے تھے جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا تھا، اور اصولی طور پر اگر دیکھا جائے تو ان کا دین بھی وہی تھا جس کی تعلیم ہمارے نبی ﷺ دے رہے تھے۔ لیکن صدیوں کے مسلسل انحطاط نے ان کو اصل دین سے بہت دور کر دیا تھا۔ ان کے عقائد میں اب بہت سی غیر اسلامی ملاوٹ ہو چکی تھی جس کو وہ حقیقی دین سمجھتے تھے۔ جن کی تورات میں کوئی وضاحت نہ تھی۔ ان کی عملی زندگی میں کافی ایسے عوامل شامل تھے جو اب رسم ورواج کی مکمل شکل اختیار کر چکے تھے۔ جو نہ تو اصل دین تھا اور نہ ہی تورات میں ان کے بارے میں کوئی دلیل موجود تھی۔ خود تورات کو انھوں نے انسانی کلام کے اندر خلط ملط کر دیا تھا۔ دین کی اصل روح ان سے نکل چکی تھی اور وہ ظاہری مذہبیت کا ایک ڈھونگ رچا رہے تھے۔ اس کے علاوہ ان علماء، مشائخ، اور ان کے سرداران قوم اور سب کی سب عوام، سب کے اعتقادی، اخلاقی اور عملی پہلو ہر لحاظ سے بگاڑ کا شکار ہو چکے تھے۔ اور یہ بگاڑ ان کے اندر اس حد تک گھر کر چکا تھا کہ وہ کسی اصلاح کو ماننے کیلئے کسی طریقے سے بھی قطعاً تیار نہ تھے۔

نبی کریم ﷺ کی دعوت حق: جب نبی آخرالزماں ﷺ مدینہ منورہ پہنچے تو آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی کہ ان کو ان کے حقیقی دین کی طرف بلائیں، سورۃ البقرۃ کے ابتدائی، پندرہ سے سولہ رکوعات اسی دعوت پر مشتمل ہیں۔ ان رکوعات میں یہود کی تاریخ اور اس کے ساتھ ان کی اخلاقی و مذہبی پستی پر روشنی ڈالی گئی ہے جس میں ان کے بگڑے ہوئے مذہب و اخلاق کی نمایاں خصوصیات کے مقابلہ میں دین حقیقی کے تمام روشن پہلوؤں پر بات کی گئی ہے۔

ریاست اسلامی کی بنیاد: مکہ میں معاملہ تو صرف دین کی تبلیغ اور دین کے قبول کرنے والوں کو اخلاقی تربیت دینے کی حد تک محدود تھا۔ مگر جب آپ ﷺ مدینہ منورہ ہجرت کر کے تشریف لائے تو عرب کے مختلف قبائل کے لوگ بھی اسلام کو قبول کر چکے تھے۔ نبی ﷺ پر ایمان لانے والے ہر طرف سے سمٹ کر ایک جگہ جمع ہونے لگے اور انصار کی مدد سے ایک چھوٹی سی اسلامی ریاست کی بنیاد ڈالی گئی۔ تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے تمدن، معاشرت، قانون اور سیاست کے مسائل کے متعلق بھی اصولی ہدایات فرمانا شروع کر دیں تھیں جن میں بتایا گیا کہ اسلام کی اساس پر یہ نیا نظام زندگی کس طرح تعمیر کیا جائے۔

منافقین کا ظہور: دعوت اسلامی کے اس مرحلہ میں ایک اور عنصر بھی شامل ہونا شروع ہو گیا تھا۔ اور یہ عنصر منافقین کا تھا۔ سورۃ البقرۃ کے نزول میں منافقین کے ظہور کی محض ابتداء تھی اس لیے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کی طرف اجمالی اشارات کو فرمایا ہے۔ اس کے بعد ان کی جتنی بھی حرکات ظاہر ہوتی گئیں اس قدر باقی سورتوں میں تفصیل کے ساتھ ہر قسم کے منافقین کی نوعیت کے اعتبار کے ساتھ الگ الگ ہدایات بھی فرمائی گئی ہیں۔

شان نزول: نبی محتشم ﷺ جب مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لا چکے تھے تو یہ سورت نازل ہوئی۔ اب مدینہ منورہ میں جن لوگوں کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے دین کی دعوت دی جارہی تھی یہ مکہ مکرمہ کے لوگوں سے ہر لحاظ سے مختلف تھے۔ مکہ مکرمہ میں آپ ﷺ کا واسطہ مشرکین مکہ سے تھا مگر مدینہ منورہ میں مشرکین کے علاوہ یہودی اور منافقین بھی تھے۔ لہٰذا سورۃ البقرۃ میں نئے دور کے تقاضوں کے لحاظ سے احکامات خداوندی کا نزول ہوا۔ جس وجہ سے اس سورت کے موضوعات و مضامین کا مکی سورتوں سے فرق واضح و نمایاں ہے۔

اہم مضامین

وسعت مضامین
سورۃ البقرۃ میں سب سے زیادہ مسائل و احکامات کو بیان کیا گیا ہے۔ ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ سورۃ البقرۃ میں ایک ہزار امر، ایک ہزار نہی، ایک ہزار حکمتیں، ایک ہزار خبر اور ایک ہزار قصص ہیں۔ (قرطبی) سورۃ البقرۃ کے مضامین کی وسعت کا معیار یہ ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب جیسے جلیل القدر صحابی کو اس سورت کو مکمل سیکھنے میں بارہ سال کا عرصہ لگ گیا، جب کہ ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر نے اس سورت کو دس سال میں اس کے تمام مضامین کیساتھ سیکھا۔
مرکزی مضمون
سورۃ البقرۃ کا مرکزی مضمون "ہدایت" ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے جو ہدات سے بھری ہوئی ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے۔
صاحب ہدایت کی صفات
سورت کے آغاز میں ان لوگوں کی صفات کو بیان کیا گیا ہے جو صاحب ہدایت ہیں یا ہدایت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں، نمازوں کو قائم کرتے ہیں، اور اس مال میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں جو انھیں اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہوا ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کیلئے پہلے انبیاء کرام علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور ان کو کتابیں عطا کرتا رہا اس نے ویسے ہی نبی کریم ﷺ کو بھی رسالت کے ساتھ قرآن کریم عطا فرمایا ہے۔ کوئی بھی انسان نبی کریم ﷺ پر ایمان لائے بغیر ایمان کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ لہٰذا انسانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ قرآن کریم کے ساتھ صاحب قرآن پر ایمان لاؤ اور انکی کامل اطاعت کرو۔
بنیادی عقائد کا ذکر
سورۃ البقرۃ کے آغاز میں اسلامی کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا بیان ہوا ہے۔ جو اسلام کے بنیادی عقائد ہیں جو تمام سابقہ کتب سماویہ میں مشترکہ ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے "اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں جو آپ ﷺ کی طرف نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو ان سے پہلے نازل کیا گیا اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں"۔
انسانوں کی اقسام کا ذکر
اسی ضمن میں انسانوں کی مختلف اقسام کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ تین ہیں۔ ایک مؤمن دوسرا منافق اور تیسرا کافر
تذکرہ کفار و منافقین
اہل ایمان کی صفات کے بعد سورت میں اللہ تعالیٰ نے کفار و منافقین کا ذکر فرمایا ہے اور ان کی بڑی بڑی علامات سے بھی مسلمانوں کو آگاہ کیا گیا ہے۔
کائنات کے مطالعہ کی دعوت
سورۃ البقرۃ کے تیسرے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اپنی عبادت کے حکم کے ساتھ ساتھ انسان کو اپنی تخلیق اور کائنات کی تخلیق میں غوروفکر کرنے کی دعوت دی ہے۔
اعجاز قرآن
تیسرے رکوع ہی میں قرآن کریم پر ہونے والے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ قرآن خود ساختہ ہے تو پھر تم بھی کوئی اسی طرح کی کوئی ایک سورت بنا لاؤ۔
مقصد تخلیق انسان
سورۃ البقرۃ میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کا واقعہ بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان کو اپنی پیدائش کا مقصد معلوم ہو جائے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی فرشتوں پر علمی برتری، فرشتوں کا سجدہ تعظیمی، حضرت آدم علیہ السلام کا دخول جنت اور جنت سے اخراج پر بھی نظر ڈالی گئی ہے۔ ارشاد خداوندی ہے "ہم نے کہا تم سب یہاں سے اتر جاؤ پھر اگر تمھارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے تو جس نے میری ہدایت کی پیروی کی تو ان پر نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے"۔ دوسری جگہ ارشاد الٰہی ہے۔ "اور ہم نے جن اور انس کو محض اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے"۔
بنی اسرائیل پر انعامات کا بیان
آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر انعامات کی تفصیل بتائی ہے۔ اس قوم پر اللہ تعالیٰ نے انعامات کی بارش کر دی مگر انہوں نے پھر بھی ناشکری و نافرمانی کی روش کو اختیار کیا۔ جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلت کی پستیوں میں ڈال دیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "اور ان پر ذلت و محتاجی مسلط کر دی گئی اور وہ اللہ کے غضب کے مستحق ہو گئے"۔
واقعہ سبت
سورۃ البقرۃ میں بنی اسرائیل کی ایک بستی کا ذکر ہوا ہے جنھوں نے ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑیں اور اللہ کے عذاب کا شکار ہو گئے اور اللہ نے انھیں بندر بنا دیا۔ سبت کا مطلب ہے ہفتے کا دن۔ جو بنی اسرائیل کیلئے عبادت اور آرام کا دن مقرر کیا گیا تھا۔ اس دن انہیں کوئی دنیاوی کام خصوصاً مچھلی کا شکار کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ سمندر کے کنارے ایک بستی میں رہتے تھے انہوں نے چالاکی سے ایک ترکیب اپنائی کہ ہفتے کے دن مچھلیاں جال میں پھنسنے دیتے مگر شکار اتوار کے دن کرتے۔ ظاہری طور پر تو حکم کی تعمیل کرتے لیکن حقیقت میں اس کی روح کی خلاف ورزی کرتے تھے۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا عذاب مسلط کیا۔
یہودیوں سے خطاب
سورۃ البقرۃ میں یہودیوں (بنی اسرائیل) سے بہت واضح، تنبیہ آمیز اور اصلاحی خطاب کیا گیا ہے۔ یہ خطاب تقریباً آیت نمبر چالیس سے ایک سو تئیس تک مشتمل ہے۔ آیات کے طویل سلسلے میں یہودیوں سے خطاب کیا گیا جو بڑی تعداد میں مدینہ منورہ کے آس پاس موجود تھے۔ جو خطاب کیا گیا وہ نعمتوں کی یاد دہانی، توہین، نافرمانیاں اور عناد کی نشاندہی، شریعت کو چالاکی سے توڑنے، دعوت حق کو قبول نہ کرنے، سچ کو نہ چھپانے سے روکنے کی تلقین، دعویٰ ایمان اور عمل میں تضاد کی نشان دہی پر مشتمل تھا۔ یہودیوں کو نصیحت، ملامت اور دعوت کے انداز میں خطاب کیا گیا تاکہ وہ اپنی تاریخ سے سبق سیکھیں اور نبی محتشم ﷺ پر ایمان لا کر اپنی اصلاح کر لیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ
پہلے پارے کے آخر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کیا گیا ہے کہ انھیں نہ صرف یہودی اور مسیحی بلکہ عرب کے بت پرست بھی اپنا پیشوا مانتے تھے، ان سب کو یہ یاد دلایا گیا ہے کہ وہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کی توحید کے قائل تھے اور انھوں نے کبھی کسی قسم کا شرک گوارا نہیں کیا تھا۔ اس ضمن میں تعمیر کعبہ کا بھی ذکر ہے۔
تحویل قبلہ کا تذکرہ
رکوع نمبر سترہ اور اٹھارہ میں تحویل قبلہ کا حکم ہوا ہے۔ جس میں بیت اللہ کو قبلہ اول بنانے کا موضوع زیر بحث آیا ہے۔ مسلمانوں کا پہلا قبلہ بیت المقدس تھا جس کو تبدیل کر کے بیت اللہ کو قبلہ اول مقرر کیا گیا۔ منافقین نے اس پر بہت سے اعتراضات کیے۔ منافقین کے سوالات: قبلہ کو کیوں بدلا گیا؟، بیت المقدس انبیاء کا قبلہ ہے اور اسے چھوڑنا حق سے انحراف ہے؟، منافقین نے کہا کہ اگر پہلا قبلہ حق تھا تو اب اس سے ہٹنا کیسے درست ہو سکتا ہے؟ اور اگر اب والا قبلہ درست ہے تو پہلے کی نمازوں کا کیا بنے گا؟ جن پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان تمام اعتراضات کے دندان شکن جوابات دیے ہیں۔ قبلہ کی تبدیلی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ یہ امتحان تھا۔ پہلے اعمال ضائع نہیں ہوں گے۔ نیا قبلہ ہی اصل قبلہ ہے۔
احکام عشرہ
سورت کے دسویں رکوع میں بنی اسرائیل سے دس کاموں کا عہد لیا گیا ہے جنھیں احکام عشرہ کہا جاتا ہے۔ یہ عہد ان بنیادی تعلیمات پر مشتمل تھا جن کی پابندی ہر مؤمن پر لازم ہے۔ 1: اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا 2: والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا 3: رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا 4: یتیموں کے ساتھ بھلائی کرنا 5: مسکینوں کی مدد کرنا 6: لوگوں سے بھلے طریقے سے بات کرنا 7: نماز قائم کرنا 8: زکوٰۃ دینا 9: ایک دوسرے کا خون نہ بہانا 10: اپنوں کو اپنے گھروں سے نہ نکالنا۔ یہ احکام دراصل ایک جامع اخلاقی، سماجی اور مذہبی ضابطہ ہیں۔ جن کی پابندی بنی اسرائیل سے بطور عہد لی گئی تھی لیکن اکثر انہوں نے ان احکامات کی خلاف ورزی کی۔
انفرادی و اجتماعی زندگی کے احکامات
مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کی بارے میں بہت سے احکامات کا بیان ہوا ہے۔ عبادات سے لے کر معاشرت، خاندانی نظام و امور اور حکمرانی کے احکامات کو بیان کیا گیا ہے۔
ممانعت شرک
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو شرک سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں شرک بہت بڑا جرم ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ "بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے"۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ جس کی چاہے گا مغفرت فرمائے گا مگر مشرک کی ہر گز بخشش نہیں فرمائے گا۔
حلت و حرمت کا بیان
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حلال چیزوں کو کھانے کا حکم اور حرام چیزوں کو نہ کھانے کا حکم فرمایا ہے۔ اور ساتھ میں حلال اور حرام چیزوں کی تفصیل کو بھی بیان کیا گیا ہے۔
روزوں کا حکم
سورۃ البقرۃ میں روزوں کی فرضیت، رمضان المبارک میں نزول قرآن اور اس کے احکام و مسائل کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
حکم جہاد
اس سورت میں جہاد کا حکم ہوا۔ جس میں اس کی فرضیت اور تمام تر وجوہات کو بتایا گیا ہے کہ اس وقت تک لڑو جب تک زمین میں فتنہ ختم نہ ہو جائے اور دین الی اللہ کا قیام مکمل نہ ہو جائے۔
قصاص کے احکامات
اس سورت مبارکہ میں قصاص یعنی مجرم سے بدلہ لینے کا اسلامی طریقہ بیان ہوا ہے۔ اسلام سے قبل ایک مقتول کے بدلے میں کئی لوگوں کو قتل کر دیا جاتا تھا۔ بالآخر اسلام نے انسانوں کو ایسا قصاص عطا فرمایا ہے جو معاشرے میں امن و سلامتی کا باعث بنتا ہے۔
جادو کی حقیقت
سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 102 میں جادو کی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ آیت یہودیوں کے اس جھوٹے الزام کی تردید کرتی ہے جو انہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام پر لگایا تھا کہ وہ نعوذ باللہ جادو کرتے تھے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے کبھی جادو نہیں کیا، جادو تو شیاطین لوگوں کو سکھاتے تھے جس وجہ سے وہ کافر ٹھہرے۔ آیت میں بابل کے مقام پر دو فرشتوں ہاروت و ماروت کا ذکر ہے جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اذن سے آزمائش کے طور پر جادو سکھاتے تھے لیکن ہمیشہ یہ کہتے تھے۔ "ہم تو صرف آزمائش ہیں پس کفر نہ کرو"
حج و عمرہ کے مسائل
اس سورت مبارکہ میں حج و عمرہ کے مسائل کا تفصیل کے ساتھ تذکرہ ہوا ہے۔ فرضیت حج اور دوران حج جن جن امور سے بچنا ہے ان سب کا ذکر کیا گیا ہے۔ دوران حج تقویٰ کو بہترین لباس قرار دیا گیا ہے۔
انفاق فی سبیل اللہ کی تاکید
اس سورت میں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنے کی فضیلت کو مثالوں کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے اور ساتھ میں مال خرچ کرنے کے آداب کو بھی بیان کیا گیا ہے کہ نہ تو بخل کرنا ہے اور نہ ہی اسراف بلکہ مال خرچ کرنے میں اعتدال سے کام لینا ہے۔
عائلی زندگی کے مسائل
اس سورت میں بڑی وضاحت کے ساتھ نکاح، طلاق، خلع، عدت، رضاعت اور حق مہر کے مسائل و احکامات کو واضح کیا گیا ہے۔
قصہ طالوت و جالوت
یہ قصہ قیادت، آزمائش، اخلاص اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد جیسے اسباق پر مشتمل ہے۔ سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 246 سے 251 تک اس قصہ کو بیان کیا گیا ہے، جو بنی اسرائیل کا ایک تاریخی دور ہے، جس میں وہ زوال کا شکار ہو چکے تھے اور وہ دشمنوں کے ظلم و ستم سے نجات حاصل کرنے کیلئے ایک بادشاہ کی طلب کرتے ہیں۔ بنی اسرائیل نے اپنے نبی حضرت سموئیل علیہ السلام سے کہا کہ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کریں تاکہ ہم اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی راہ میں لڑیں۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ مقرر کیا ہے تو وہ کہنے لگے کہ اس کے پاس مال و دولت نہیں ہے۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ طالوت کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ تابوت (مقدس صندوق) واپس آجائے گا جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کی نشانیوں والی اشیاء موجود تھیں اور اسے فرشتے لائیں گے۔ طالوت جب لشکر کے ساتھ نکلا تو اللہ تعالیٰ نے ایک نہر کے پانی سے آزمائش کی کہ جو اس میں سے تھوڑا سا پانی پیے گا وہ کامیاب ہے جو زیادہ پانی پیے گا وہ پیچھے رہ جائے گا جس پر بہت سے لوگ ناکام ہوئے اور چند مخلص لوگ ہی کامیاب ہوئے۔ جالوت ایک ظالم اور طاقتور بادشاہ تھا بنی اسرائیل کی قلیل فوج نے اللہ تعالیٰ پر یقین کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جس پر اللہ تعالیٰ نے انکی مدد کیلئے حضرت داؤد علیہ السلام کا ظہور فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو جالوت کے قتل کی توفیق دی اور بعد میں انہیں نبوت و بادشاہت عطا فرمائی۔
جوّا اور حرمت شراب
سورۃ البقرۃ میں جوّا (قمار، قسمت آزمائی پر مبنی کھیل) اور شراب (خمر، عقل کو ڈھانپ لینے والی شے) کی حرمت کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ ان دونوں کو شیطان کا عمل قرار دیا گیا ہے جو وقتی فائدہ دیتے ہیں مگر ان کا نقصان فائدہ سے بڑا ہے جو دشمنی، بغض اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی یاد سے غافل کرتے ہیں۔
سود کی حرمت
سود (الربوا) کی حرمت کا تفصیلی بیان سورۃ البقرۃ کی آیت 275 تا 281 میں آیا ہے، جو قرآن مجید میں سود کے بارے میں سب سے زیادہ جامع ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ: "جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن ایسے کھڑے ہوں گے جیسے کوئی شخص شیطان کے چھو جانے سے دیوانہ ہو گیا ہو" سود خوری کو ذہنی و روحانی فساد کی حالت سے تعبیر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ سود لینا فطرت کے خلاف اور شیطانی عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال جبکہ سود کو حرام قرار دیا ہے۔

علمی و عملی نکات

اظہار ایمان
ایمان کا اظہار اعمال سے ہوتا ہے، جس میں اولین عمل نماز ادا کرنا ہے۔
عطائے گمراہی
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو گمراہ کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑتے ہیں، قطع رحمی اور زمین پر فساد مچاتے ہیں۔
شیطانی طرز عمل
اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور تکبر کرنا شیطانی عمل ہے۔
عظمت انسان
انسان کی عظمت اس میں ہے کہ بھول یا خطا ہو جائے تع فوراً توبہ کر لے۔
اہل ایمان کا شیوہ
مصائب اور مشکلات میں صبر اور نماز کے ذریعے سے اللہ کی مدد حاصل کرنا ایمان والوں کا شیوہ ہے۔
علامت صاحب ایمان
موت کی فکر کرنا صاحب ایمان ہونے کی علامت ہے۔
حصول سعادت و ایمان
سعادت و فضیلت کا حصول محنت اور قربانی کا تقاضہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو آزمائشوں اور امتحانات سے گزار کر اعلیٰ مقام و مرتبے سے نوازتا ہے۔
معیار ایمان و عقائد
صحابہ کرام کے ایمان اور عقیدے کو معیار اور مثالی نمونہ قرار دیا گیا ہے۔
اہل کتاب کا نبی ﷺ کی رسالت سے انکار
اہل کتاب حضرت محمد ﷺ کو خوب پہچانتے تھے کہ آپ ﷺ رسول برحق ہیں لیکن حسد اور عناد کی وجہ سے جانتے بوجھتے ہوئے انھوں نے آپ ﷺ کی رسالت کا انکار کیا۔
کامیابی انسان
بندہ اگر یہ دیکھنا چاہے کہ اللہ سے کتنا پیار رکھتا ہے تو وہ یہ دیکھے کہ وہ خود اللہ کو کتنا یاد کرتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کو یاد کرتا ہے۔ یہی بندے کی کامیابی ہے۔
کمال ایمان کی علامت
ایمان کے کمال کی علامت یہ ہے کہ بندہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرے۔
اللہ سے دعا مانگنا
اللہ سے دعا مانگنے والوں کی دعا اللہ ضرور قبول کرتا ہے۔
آخرت میں نعمتوں سے محرومی
دنیا پرست صرف دنیاوی چیزوں کی دعائیں کرتے ہیں وہ آخرت میں نعمتوں سے محروم ہوں گے جب کہ نیک بندے دنیا اور آخرت میں بھلائی کی دعائیں مانگتے ہیں۔
ترتیب خرچ مال
اللہ تعالیٰ نے مال کو خرچ کی یہ ترتیب بتائی ہے کہ پہلے والدین۔ رشتہ داروں اور پھر دیگر حاجت مندوں پر خرچ کیا جائے۔
لا علمی انسان
انسان اپنی لاعلمی یا ناقص علم کی وجہ سے فائدہ کو نقصان یا نقصان کو فائدہ سمجھ بیٹھتا ہے۔
زوال و ہلاکت
جس قوم میں اجتماعی بزدلی آجائے وہ زوال اور ہلاکت سے نہیں بچ سکتی۔
جبر و زبردستی
دین میں کوئی جبر نہیں یعنی دین قبول کرانے میں کسی پر کوئی جبر اور زبردستی نہیں۔
ضائع نیکی
احسان جتلانے۔ دکھاوا کرنے اور تکلیف پہنچانے سے نیکی ضائع ہو جاتی ہے۔
معاملات قرض
قرض کے معاملات کو تحریر میں لانے اور ان پر گواہ بنانے کی تلقین کی گئی ہے۔
انجام سود
سود سے حاصل ہونے والے مال میں برکت نہیں ہوتی۔ اس کا انجام مفلسی اور تباہی ہے۔
اعمال کی ذمہ داری
انسان اپنے اعمال کا ذمہ دار خود ہے۔ اسے اچھے اعمال پر ثواب اور برے پر گناہ دیا جائے گا۔

آیات و ترجمہ

آیت 01،02
الٓمّٓۚ ﴿۱﴾ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ ۛ فِيْهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ ۙ ﴿۲﴾
الٓمّٓۚ۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے۔
آیت 03
الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ ۙ ﴿۳﴾
جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے انھیں دیا ہے اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں۔
آیت 04
وَالَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ وَبِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ ۗ ﴿۴﴾
اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں جو آپ ﷺ پر نازل ہوا اور اس پر جو آپ ﷺ سے پہلے نازل ہوا اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
آیت 05
اُولٰۤىِٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ ۙ وَاُولٰۤىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ﴿۵﴾
یہ لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔
آیت 06
اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَوَاۤءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ ﴿۶﴾
بے شک جن لوگوں نے کفر کیا ان کے حق میں برابر ہے آپ ﷺ انھیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
آیت 07
خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰى سَمْعِهِمْ ۗ وَعَلٰىٓ اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ۖ وَّلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ ﴿۷﴾
اللہ نے ان کے دلوں، انکی آنکھوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے، ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔
آیت 255
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ اَلْحَيُّ الْقَيُّوْمُ ەۚ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ ۗ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۗ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۗ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۤءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ وَلَا يَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ ﴿۲۵۵﴾
اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے بے اس کے حکم کے جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے اور وہ نہیں پاتے اس کے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے اس کی کرسی میں سمائے ہوئے ہیں آسمان اور زمین اور اسے بھاری نہیں ان کی نگہبانی اور وہی ہے بلند بڑائی والا
آیت 275
اَلَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا يَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا يَقُوْمُ الَّذِيْ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ۗ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْٓا اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا ۘ وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ۗ فَمَنْ جَاۤءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ ۗ وَاَمْرُهٗٓ اِلَى اللّٰهِ ۗ وَمَنْ عَادَ فَاُولٰۤىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ﴿۲۷۵﴾
وہ جو سُود کھاتے ہیں قیامت کے دن ایسے کھڑے ہوں گے جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنا دیا ہو یہ اس لیے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سُود ہی کے مانند ہے اور اللہ نے حلال کیا بیع اور حرام کیا سُود جسے اس کے رب کے پاس سے نصیحت آئی اور وہ باز رہا تو اسے حلال ہے جو پہلے لے چکا اور اس کا کام خدا کے سپرد ہے اور جو اَب ایسی حرکت کرے گا تو وہ دوزخی ہے وہ اس میں مدتوں رہیں گے
آیت 284
لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۗ وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ ۗ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۤءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۤءُ ۗ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ﴿۲۸۴﴾
اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا تو جسے چاہے گا بخشے گا اور جسے چاہے گا سزا دے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے
آیت 285
اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۗ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰۤىِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ ۗ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ ۗ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ٭ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ ﴿۲۸۵﴾
رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانا اللہ اور اس کے فرشتوں اور کتابوں اور اسکے رسولوں کو یہ کہتے ہوئے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے اور عرض کی کہ ہم نے سنا اور مانا تیری معافی ہو اے رب ہمارے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔
آیت 286
لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا ۗ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ ۚ وَاعْفُ عَنَّا ٙ وَاغْفِرْ لَنَا ٙ وَارْحَمْنَا ٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ﴿۲۸۶﴾
اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی اے رب ہمارے ہمیں نہ پکڑ اگر ہم بھولیں چوکیں اے رب ہمارے اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے اگلوں پر رکھا تھا اے رب ہمارے اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار (طاقت) نہ ہو اور ہمیں معاف فرما دے اور بخش دے اور ہم پر مہر (رحم) کر تو ہمارا مولیٰ ہے تو کافروں پر ہمیں مدد دے۔

ذخیرہ الفاظ

رَيْبَشک
يُؤْمِنُوْنَوہ ایمان رکھتے ہیں
يُقِيْمُوْنَوہ قائم کرتے ہیں
رَزَقْنٰهُمْہم نے ان کو رزق دیا
يُنْفِقُوْنَوہ خرچ کرتے ہیں
اُنْزِلَنازل فرمایا
يُوْقِنُوْنَوہ یقین رکھتے ہیں
سَوَاۤءٌبرابر ہے
اَمْیا
لَا يُؤْمِنُوْنَوہ ایمان نہیں لائیں گے
خَتَمَمہر لگا دی
غِشَاوَةٌپردہ
الْحَيُّزندہ
الْقَيُّوْمُسب کو قائم رکھنے والا
سِنَةٌاونگھ
نَوْمٌنیند
بَيْنَ اَيْدِيْهِمْان کے سامنے
خَلْفَهُمْان کے پیچھے
لَا يُحِيْطُوْنَوہ احاطہ نہیں کر سکتے
لَا يَـُٔوْدُهٗاسے تھکاتی
الرِّبٰواسود
يَتَخَبَّطُهُاسے پاگل کر دیا
وَاِنْ تُبْدُوْااور اگر تم ظاہر کرو
اَوْ تُخْفُوْهُیا اسے چھپاؤ
كُلٌّسب کے سب
مَلٰۤىِٕكَتِهٖاس کے فرشتے
لَا نُفَرِّقُہم تفریق نہیں کرتے
اِنْ نَّسِيْنَآاگر ہم بھول جائیں
لَا تُؤَاخِذْنَآتو ہماری گرفت نہ کر
لَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآہم پر نہ ڈال
اَوْ اَخْطَاْنَایا ہم خطا کر بیٹھیں
مَوْلٰىنَاہمارا کارساز
اِصْرًابوجھ
غُفْرَانَكَتیری بخشش

کثیرالانتخابی سوالات

قرآن مجید کی سب سے طویل ترین سورت ہے:
قرآن مجید کی سب سے فضیلت والی آیت ہے:
حضرت عمر نے سورت البقرۃ سیکھی:
آیۃ الکرسی حصہ ہے:
عربی زبان میں بقرہ کا معنی ہے:
حضور ﷺ کے مطابق شیطان اس گھر میں داخل نہیں ہوتا جس میں تلاوت کی جائے:
سورۃ البقرۃ کو قرار دیا گیا ہے:
سورۃ البقرۃ کا مرکزی موضوع ہے:
سورۃ البقرۃ میں انسانوں کی قسمیں بیان کی گئی ہیں:
مدینہ منورہ کے آس پاس بڑی تعداد میں موجود تھے:
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا روحانی پیشوا مانتے تھے:
اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کے خلاف جنگ سے تعبیر کیا گیا:
ایمان کا اظہار ہوتا ہے:
مصائب اور تکالیف میں اللہ کی مدد طلب کرنی چاہیے:
سود کا انجام ہے:

مختصر سوالات

سورۃ البقرۃ کو یہ نام کیوں دیا گیا ہے؟˅
بقرۃ کا معنی ہے "گائے"۔ اس سورت کی آیت سڑسٹھ تا تہتر میں اُس گائے کا ذکر ہے جسے بنی اسرائیل والوں کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ البقرۃ رکھا گیا ہے۔
قرآن مجید کی سات طویل سورتوں کو سیکھنے کی کیا فضیلت ہے؟˅
قرآن مجید کی سات طویل ترین سورتوں کو سیکھنے کی فضیلت کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا "جو قرآن مجید کی سات طویل ترین سورتوں کو سیکھے گا وہ بہت بڑا عالم ہو گا"۔
آیۃ الکرسی کی ایک فضیلت لکھیں؟˅
آیۃ الکرسی کی فضیلت کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا "جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھتا ہے اسے جنت میں جانے سے صرف موت ہی روکے رکھتی ہے"۔
قرآن مجید کی چوٹی کس سورت کو کہا گیا ہے؟˅
قرآن مجید کی چوٹی سورۃ البقرۃ کو کہا گیا ہے۔
سورۃ البقرۃ کی آخری دو آیات کی فضیلت بیان کریں؟˅
سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات کی فضیلت بیان کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا "جو شخص رات کو سونے سے پہلے سورت البقرہ کی آخری دو آیات پڑھے گا اس کے لیے کافی ہو جائیں گی"۔
سورۃ البقرۃ کا مرکزی مضمون کیا ہے؟˅
سورۃ البقرۃ کا مرکزی مضمون "ہدایت" ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کیا خصوصیت ہے؟˅
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خصوصیت یہ ہے کہ "ان کو نہ صرف یہودی اور مسیحی بلکہ عرب کے بت پرست بھی ان کو اپنا پیشوا مانتے تھے"۔ وہ خالص توحید کے قائل تھے انہوں نے کبھی بھی کسی قسم کے شرک کو گوارہ نہیں کیا۔
سورۃ البقرۃ میں بنی اسرائیل کا تذکرہ کس طور پر آیا ہے؟˅
سورۃ البقرہ میں بنی اسرائیل کا ذکر کا اس طور پر آیا ہے کہ بنی اسرائیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کو کہا جاتا ہے اس لئے اس سورت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل کا بھی ذکر ہے۔
اللہ تعالیٰ کن لوگوں کی گمراہی کا فیصلہ کرتا ہے؟˅
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی گمراہی کا فیصلہ کرتا ہے جو "اللہ تعالیٰ کا عہد توڑتے ہیں، قطع رحمی کرتے ہیں اور زمین میں فساد مچاتے ہیں"۔
سورۃ البقرۃ میں مال خرچ کرنے کیا ترکیب بتائی گئی ہے؟˅
سورۃ البقرۃ میں مال خرچ کرنے کی ترکیب اس طرح بیان کی گئی ہے کہ "پہلے والدین، رشتہ داروں اور پھر دیگر حاجت مندوں پر خرچ کیا جائے"۔

سورۃ البقرۃ سے متعلق واقعہ

سورۃ البقرۃ سے متعلق واقعہ: اس واقعہ کی تفصیل تاریخ میں کچھ یوں آئی ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص نے اپنے بھائی کو میراث حاصل کرنے کی غرض سے قتل کر دیا اور اسکی لاش کو راستے پر ڈال دیا۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس اپنے بھائی کے قتل کا مقدمہ لے کر پہنچ گیا کہ قاتل کو پکڑ کی سزا دی جائے۔ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ رب العزت کے حکم سے گائے کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ جس کا واقعہ اس سورت میں بیان کیا گیا ہے۔ جب گائے کو ذبح کیا گیا تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرمایا کہ ذبیحہ گائے کا کوئی ایک عضو اٹھا کر مقتول کی لاش پر مارا جائے جس سے مقتول زندہ ہو کر قاتل کا نام بتائے گا۔ پھر ایسا ہی کیا گیا جس سے قاتل کا راز عیاں ہو گیا۔

فضائل

سورۃ البقرۃ کے فضائل:

باعث عزت و تکریم: صحابہ کرام کے زمانے میں جو شخص سورۃ البقرۃ اور سورۃ آل عمران کا عالم ہوتا تھا اسے بہت عظیم اور لائق تکریم شمار کیا جاتا تھا۔

سورۃ البقرۃ کی تلاوت کی تاکید: حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: “اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ (یعنی ذکر وتلاوت سے گھروں کو خالی نہ رکھو) بے شک شیطان اس گھر میں داخل نہیں ہوتا جس گھر میں سورۃ البقرۃ کی تلاوت کی جائے”۔ (صحیح مسلم)

سورۃ البقرۃ پڑھنے کی فضیلت: آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ “سورۃ البقرۃ کو پڑھا کرو کیونکہ اس کا پڑھنا برکت ہے، اور اس کا چھوڑنا حسرت اور بد نصیبی ہے”۔

اہل باطل سے حفاظت: سورۃ البقرۃ پڑھنے سے یہ اثر ہوتا ہے کہ اہل باطل (جادوگر، کاہن) لوگوں کے اثرات سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت کی جاتی ہے۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا “سورۃ البقرۃ کو پڑھا کرو کیونکہ اس کا پڑھنا برکت ہے، اور اس کا چھوڑنا حسرت اور بد نصیبی ہے، اور اہل باطل کا اس قابو نہیں ہے”۔

شیطان سے حفاظت: حضرت محمد ﷺ نے فرمایا “جس گھر میں سورۃ البقرۃ پڑھی جائے شیطان وہاں سے بھاگ جاتا ہے”۔

ذروۃ القرآن: سنام اور ذروہ ہر چیز کے اعلیٰ و افضل حصہ کو کہا جاتا ہے، اس کی ہر آیت کے نزول کے وقت اسی فرشتے اس کے جلو میں نازل ہوئے ہیں۔

سنام القرآن: سنام چوٹی کو کہتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا “ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے قرآن مجید کی چوٹی سورۃ البقرۃ ہے”۔

رنج و بیماری اور آفات سے حفاظت: حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ سورۃ بقرۃ کی دس آیات ایسی ہیں جن کو رات میں کوئی پڑھ لے تو اس رات کو جن و شیاطین اس گھر میں داخل نہ ہوں اور اس کے اہل و عیال کو اس رات میں کوئی آفت، رنج، بیماری وغیرہ پیش نہ آئے گی۔ اور اگر یہ آیتیں کسی مجنون پر پڑھی جائیں تو افاقہ ہو گا۔ وہ دس آیتیں یہ ہیں (چار شروع کیں، پھر تین درمیانی یعنی آیۃ الکرسی اور دو اس کے بعد کیں پھر آخری دو آیتیں)

طویل ترین سورت: سورۃ البقرۃ قرآن مجید کی طویل ترین سورت ہے۔ ان سورتوں کے متعلق نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: “جس نے قرآن کی سات طویل ترین سورتوں کے علم کو حاصل کر لیا وہ بہت بڑا عالم بن گیا”۔

السبع الطوال: سے مراد قرآن المجید کی سات طویل ترین سورتیں ہیں جو حجم میں بڑی ہیں اور اہم مضامین پر مشتمل ہیں۔ یہ سورتیں فقہی، عقائدی، اخلاقی اور معاشرتی احکامات پر مشتمل ہیں۔ 1: سورۃ البقرۃ 2: سورۃ آل عمران 3: سورۃ النساء 4: سورۃ المائدۃ 5: سورۃ الانعام 6: سورۃ الاعراف 7: سورۃ التوبہ

آخری دو آیتوں کی فضیلت: سورۃ البقرۃ کی آخری دو آیات کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جو شخص سورۃ البقرۃ کی آخری دو آیات رات کے سونے سے پہلے پڑھے گا اس کیلئے یہ کافی ہو جائیں گی”۔

آیۃ الکرسی

آیۃ الکرسی: حضرت ابو ہریرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ اس سورت میں ایک ایسی آیت ہے جو تمام آیات قرآن میں اشرف و افضل ہے اور وہ آیت الکرسی ہے۔ (ابن کثیر از ترمذی) آیت الکرسی اس سورت کی آیت نمبر 255 ہے۔ یہ آیتوں کی سردار آیت ہے۔

احادیث مبارکہ میں آیت الکرسی کی بہت سی فضیلتیں آئی ہیں جن میں سے چند مذکور ہیں۔

جنت کی نوید: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھتا ہے اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت ہی روکے رکھتی ہے”۔

شیطان سے حفاظت: نبی محتشم ﷺ نے فرمایا: “جب تم اپنے بستر پر جانے لگو تو آیۃ الکرسی پڑھ لیا کرو، صبح تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے ایک محافظ مقرر کیا جائے گا اور شیطان تمہارے قریب نہیں آسکے گا”۔

وحدانیت، قدرت وصفات الٰہی کا بیان: آیۃ الکرسی میں اللہ عزوجل کی وحدانیت یعنی اس کے ایک الٰہ واحد ہونے کو بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی قدرت وصفات کو بھی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔