خصوصیات: سورۃ البقرۃ قرآن مجید کی سب سے لمبی سورت ہے۔ یہ مدینہ منورہ میں نازل ہونے والی پہلی سورت ہے۔ اس سورت میں سب سے زیادہ احکامات ربی کا ذکر ہے۔ یہ سورتوں کی ترتیب کے لحاظ سے دوسری سورت ہے۔ اس سورت کا زیادہ تر حصہ ہجرت مدینہ کے بعد بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوا تھا۔
حروف مقطعات: سورۃ البقرۃ حروف مقطعات میں سے الٓمّٓۚ سے شروع ہوتی ہے۔ (حروف مقطعات سے مراد ایسے حروف ہیں جن کے معانی اللہ رب العزت اور نبی حضرت محمد ﷺ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا)
وجہ تسمیہ: سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر سڑسٹھ (67) سے لے کر آیت نمبر (73) تہتر تک ایک گائے کا واقعہ بیان ہوا ہے جسے بنی اسرائیل کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ عربی زبان میں "گائے" کو بقرۃ کہتے ہیں۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ البقرۃ رکھا گیا ہے۔
واقعہ کی حکمتیں: اس واقعہ سے بہت سی حکمتوں کا پتہ چلتا ہے جن میں سے ایک یہ کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ انسانوں کے مر جانے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ یہ واقعہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں بنی اسرائیل کی ایمانی اور اخلاقی پستی کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
پس منظر: حضرت محمد ﷺ جب ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہ سورت نازل ہوئی۔ مدینہ منورہ میں اب جن لوگوں کو دعوت حق دی جا رہی تھی یہ لوگ مکہ مکرمہ کے لوگوں سے بالکل مختلف تھے۔ یہاں دعوت اسلام جس بنیاد سے دی جا رہی تھی اس کی ضروریات و تقاضے بھی مختلف تھے۔ ہجرت سے پہلے جب تک دعوت اسلام مکہ مکرمہ میں دی جاتی رہی تب خطاب بھی مشرکین عرب سے تھا جن کے لیے اسلام ایک نئی اور ایک انجانی آواز تھی۔ ہجرت کے بعد یہاں یہودیوں سے واسطہ پڑا جن کی بستیاں مدینہ منورہ کے ساتھ آباد تھیں۔ یہ لوگ توحید، رسالت اور آخرت و وحی کے قائل تھے۔ اس ضابطہ کو تسلیم کرتے تھے جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا تھا، اور اصولی طور پر اگر دیکھا جائے تو ان کا دین بھی وہی تھا جس کی تعلیم ہمارے نبی ﷺ دے رہے تھے۔ لیکن صدیوں کے مسلسل انحطاط نے ان کو اصل دین سے بہت دور کر دیا تھا۔ ان کے عقائد میں اب بہت سی غیر اسلامی ملاوٹ ہو چکی تھی جس کو وہ حقیقی دین سمجھتے تھے۔ جن کی تورات میں کوئی وضاحت نہ تھی۔ ان کی عملی زندگی میں کافی ایسے عوامل شامل تھے جو اب رسم ورواج کی مکمل شکل اختیار کر چکے تھے۔ جو نہ تو اصل دین تھا اور نہ ہی تورات میں ان کے بارے میں کوئی دلیل موجود تھی۔ خود تورات کو انھوں نے انسانی کلام کے اندر خلط ملط کر دیا تھا۔ دین کی اصل روح ان سے نکل چکی تھی اور وہ ظاہری مذہبیت کا ایک ڈھونگ رچا رہے تھے۔ اس کے علاوہ ان علماء، مشائخ، اور ان کے سرداران قوم اور سب کی سب عوام، سب کے اعتقادی، اخلاقی اور عملی پہلو ہر لحاظ سے بگاڑ کا شکار ہو چکے تھے۔ اور یہ بگاڑ ان کے اندر اس حد تک گھر کر چکا تھا کہ وہ کسی اصلاح کو ماننے کیلئے کسی طریقے سے بھی قطعاً تیار نہ تھے۔
نبی کریم ﷺ کی دعوت حق: جب نبی آخرالزماں ﷺ مدینہ منورہ پہنچے تو آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی کہ ان کو ان کے حقیقی دین کی طرف بلائیں، سورۃ البقرۃ کے ابتدائی، پندرہ سے سولہ رکوعات اسی دعوت پر مشتمل ہیں۔ ان رکوعات میں یہود کی تاریخ اور اس کے ساتھ ان کی اخلاقی و مذہبی پستی پر روشنی ڈالی گئی ہے جس میں ان کے بگڑے ہوئے مذہب و اخلاق کی نمایاں خصوصیات کے مقابلہ میں دین حقیقی کے تمام روشن پہلوؤں پر بات کی گئی ہے۔
ریاست اسلامی کی بنیاد: مکہ میں معاملہ تو صرف دین کی تبلیغ اور دین کے قبول کرنے والوں کو اخلاقی تربیت دینے کی حد تک محدود تھا۔ مگر جب آپ ﷺ مدینہ منورہ ہجرت کر کے تشریف لائے تو عرب کے مختلف قبائل کے لوگ بھی اسلام کو قبول کر چکے تھے۔ نبی ﷺ پر ایمان لانے والے ہر طرف سے سمٹ کر ایک جگہ جمع ہونے لگے اور انصار کی مدد سے ایک چھوٹی سی اسلامی ریاست کی بنیاد ڈالی گئی۔ تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے تمدن، معاشرت، قانون اور سیاست کے مسائل کے متعلق بھی اصولی ہدایات فرمانا شروع کر دیں تھیں جن میں بتایا گیا کہ اسلام کی اساس پر یہ نیا نظام زندگی کس طرح تعمیر کیا جائے۔
منافقین کا ظہور: دعوت اسلامی کے اس مرحلہ میں ایک اور عنصر بھی شامل ہونا شروع ہو گیا تھا۔ اور یہ عنصر منافقین کا تھا۔ سورۃ البقرۃ کے نزول میں منافقین کے ظہور کی محض ابتداء تھی اس لیے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کی طرف اجمالی اشارات کو فرمایا ہے۔ اس کے بعد ان کی جتنی بھی حرکات ظاہر ہوتی گئیں اس قدر باقی سورتوں میں تفصیل کے ساتھ ہر قسم کے منافقین کی نوعیت کے اعتبار کے ساتھ الگ الگ ہدایات بھی فرمائی گئی ہیں۔
شان نزول: نبی محتشم ﷺ جب مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لا چکے تھے تو یہ سورت نازل ہوئی۔ اب مدینہ منورہ میں جن لوگوں کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے دین کی دعوت دی جارہی تھی یہ مکہ مکرمہ کے لوگوں سے ہر لحاظ سے مختلف تھے۔ مکہ مکرمہ میں آپ ﷺ کا واسطہ مشرکین مکہ سے تھا مگر مدینہ منورہ میں مشرکین کے علاوہ یہودی اور منافقین بھی تھے۔ لہٰذا سورۃ البقرۃ میں نئے دور کے تقاضوں کے لحاظ سے احکامات خداوندی کا نزول ہوا۔ جس وجہ سے اس سورت کے موضوعات و مضامین کا مکی سورتوں سے فرق واضح و نمایاں ہے۔
سورۃ البقرۃ سے متعلق واقعہ: اس واقعہ کی تفصیل تاریخ میں کچھ یوں آئی ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص نے اپنے بھائی کو میراث حاصل کرنے کی غرض سے قتل کر دیا اور اسکی لاش کو راستے پر ڈال دیا۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس اپنے بھائی کے قتل کا مقدمہ لے کر پہنچ گیا کہ قاتل کو پکڑ کی سزا دی جائے۔ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ رب العزت کے حکم سے گائے کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ جس کا واقعہ اس سورت میں بیان کیا گیا ہے۔ جب گائے کو ذبح کیا گیا تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرمایا کہ ذبیحہ گائے کا کوئی ایک عضو اٹھا کر مقتول کی لاش پر مارا جائے جس سے مقتول زندہ ہو کر قاتل کا نام بتائے گا۔ پھر ایسا ہی کیا گیا جس سے قاتل کا راز عیاں ہو گیا۔
سورۃ البقرۃ کے فضائل:
باعث عزت و تکریم: صحابہ کرام کے زمانے میں جو شخص سورۃ البقرۃ اور سورۃ آل عمران کا عالم ہوتا تھا اسے بہت عظیم اور لائق تکریم شمار کیا جاتا تھا۔
سورۃ البقرۃ کی تلاوت کی تاکید: حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: “اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ (یعنی ذکر وتلاوت سے گھروں کو خالی نہ رکھو) بے شک شیطان اس گھر میں داخل نہیں ہوتا جس گھر میں سورۃ البقرۃ کی تلاوت کی جائے”۔ (صحیح مسلم)
سورۃ البقرۃ پڑھنے کی فضیلت: آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ “سورۃ البقرۃ کو پڑھا کرو کیونکہ اس کا پڑھنا برکت ہے، اور اس کا چھوڑنا حسرت اور بد نصیبی ہے”۔
اہل باطل سے حفاظت: سورۃ البقرۃ پڑھنے سے یہ اثر ہوتا ہے کہ اہل باطل (جادوگر، کاہن) لوگوں کے اثرات سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت کی جاتی ہے۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا “سورۃ البقرۃ کو پڑھا کرو کیونکہ اس کا پڑھنا برکت ہے، اور اس کا چھوڑنا حسرت اور بد نصیبی ہے، اور اہل باطل کا اس قابو نہیں ہے”۔
شیطان سے حفاظت: حضرت محمد ﷺ نے فرمایا “جس گھر میں سورۃ البقرۃ پڑھی جائے شیطان وہاں سے بھاگ جاتا ہے”۔
ذروۃ القرآن: سنام اور ذروہ ہر چیز کے اعلیٰ و افضل حصہ کو کہا جاتا ہے، اس کی ہر آیت کے نزول کے وقت اسی فرشتے اس کے جلو میں نازل ہوئے ہیں۔
سنام القرآن: سنام چوٹی کو کہتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا “ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے قرآن مجید کی چوٹی سورۃ البقرۃ ہے”۔
رنج و بیماری اور آفات سے حفاظت: حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ سورۃ بقرۃ کی دس آیات ایسی ہیں جن کو رات میں کوئی پڑھ لے تو اس رات کو جن و شیاطین اس گھر میں داخل نہ ہوں اور اس کے اہل و عیال کو اس رات میں کوئی آفت، رنج، بیماری وغیرہ پیش نہ آئے گی۔ اور اگر یہ آیتیں کسی مجنون پر پڑھی جائیں تو افاقہ ہو گا۔ وہ دس آیتیں یہ ہیں (چار شروع کیں، پھر تین درمیانی یعنی آیۃ الکرسی اور دو اس کے بعد کیں پھر آخری دو آیتیں)
طویل ترین سورت: سورۃ البقرۃ قرآن مجید کی طویل ترین سورت ہے۔ ان سورتوں کے متعلق نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: “جس نے قرآن کی سات طویل ترین سورتوں کے علم کو حاصل کر لیا وہ بہت بڑا عالم بن گیا”۔
السبع الطوال: سے مراد قرآن المجید کی سات طویل ترین سورتیں ہیں جو حجم میں بڑی ہیں اور اہم مضامین پر مشتمل ہیں۔ یہ سورتیں فقہی، عقائدی، اخلاقی اور معاشرتی احکامات پر مشتمل ہیں۔ 1: سورۃ البقرۃ 2: سورۃ آل عمران 3: سورۃ النساء 4: سورۃ المائدۃ 5: سورۃ الانعام 6: سورۃ الاعراف 7: سورۃ التوبہ
آخری دو آیتوں کی فضیلت: سورۃ البقرۃ کی آخری دو آیات کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جو شخص سورۃ البقرۃ کی آخری دو آیات رات کے سونے سے پہلے پڑھے گا اس کیلئے یہ کافی ہو جائیں گی”۔
آیۃ الکرسی: حضرت ابو ہریرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ اس سورت میں ایک ایسی آیت ہے جو تمام آیات قرآن میں اشرف و افضل ہے اور وہ آیت الکرسی ہے۔ (ابن کثیر از ترمذی) آیت الکرسی اس سورت کی آیت نمبر 255 ہے۔ یہ آیتوں کی سردار آیت ہے۔
احادیث مبارکہ میں آیت الکرسی کی بہت سی فضیلتیں آئی ہیں جن میں سے چند مذکور ہیں۔
جنت کی نوید: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھتا ہے اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت ہی روکے رکھتی ہے”۔
شیطان سے حفاظت: نبی محتشم ﷺ نے فرمایا: “جب تم اپنے بستر پر جانے لگو تو آیۃ الکرسی پڑھ لیا کرو، صبح تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے ایک محافظ مقرر کیا جائے گا اور شیطان تمہارے قریب نہیں آسکے گا”۔
وحدانیت، قدرت وصفات الٰہی کا بیان: آیۃ الکرسی میں اللہ عزوجل کی وحدانیت یعنی اس کے ایک الٰہ واحد ہونے کو بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی قدرت وصفات کو بھی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔