مقام نزول: یہ مکی سورت ہے۔
آیات کی تعداد: اس سورت میں (88) اٹھاسی آیات ہیں۔
رکوعات: اس سورت میں (05) پانچ رکوع ہیں۔
سورة (ص) نام کا معنی: ایک حرف
وجہ تسمیہ: اس سورت کا آغاز حروف مقطعات میں سے ص سے ہوتا ہے اس لیے اس سورت کا نام سورت ص ہے۔
زمانہ نزول: اس سورت کا نزول نبیؐ کی مکہ معظمہ میں اعلانیہ دعوت کے آغاز میں ہوا۔
شانِ نزول: اس سورت کے نازل ہونے کا ایک خاص واقعہ ہے۔ "ایک مرتبہ قریش کے سردار حضرت محمد ﷺ کے چچا حضرت ابو طالب کے پاس ایک وفد کی شکل میں آئے اور کہا: اگر محمد ہمارے بتوں کو برا کہنا چھوڑ دیں تو ہم انہیں ان کے دین پر عمل کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ چنانچہ جب حضرت محمد ﷺ کو مجلس میں بلا کر یہ تجویز سامنے رکھی گئی تو آپؐ نے اپنے چچا سے فرمایا؛ چچا جان کیا میں انھیں اس چیز کی دعوت نہ دوں جو ان کے لیے بہتر ہے؟ جس کے ذریعے پورا عرب ان کے سامنے جھک جائے گا اور یہ عجم کے مالک ہو جائیں گے۔ اس کے بعد آپ نے کلمہ توحید پڑھا یہ سن کر تمام لوگ کپڑے جھاڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے؛ کیا ہم سارے معبودوں کو چھوڑ کر ایک اختیار کر لیں؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ اس موقع پر سورت ص کی آیات نازل ہوئیں"۔
اس سورت کا خلاصہ ‘عقیدہ رسالت کا بیان’ ہے۔