نہم جماعت کے لیے

سورۃ الشعراء

پارہ 19 آیات 227 رکوع 11 مکی

تعارف

مقام نزول: سورۃ الشعراء مکی سورت ہے۔

آیات کی تعداد: اس سورت میں (227) دو سو ستائیس آیات ہیں۔

رکوعات: اس سورت میں (11) گیارہ رکوع ہیں۔

لمبی ترین مکی سورت: اس سورت کی خصوصیت یہ ہے کہ 'آیات کے لحاظ سے لمبی ترین مکی سورت' ہے۔

سورۃ (شعراء) نام کا معنی: شعراء شاعر کی جمع ہے۔

وجہ تسمیہ: اس سورت کے آخر میں اچھے اور برے شاعروں کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں اسی وجہ سے اس سورت کا نام سورۃ الشعراء ہے۔

زمانہ نزول: یہ سورت، سورت الواقعہ کے بعد نازل ہوئی جس میں کفار نبی کریم ﷺ کی شدید مخالفت پر اتر آئے تھے۔

شانِ نزول: مشرکین نے نبی ﷺ پر الزام لگایا کہ قرآن صرف شاعری ہے، لیکن اللہ نے واضح کیا کہ یہ اللہ کی وحی ہے، شاعر کا کلام نہیں۔ سورۃ میں ماضی کے انبیاء اور قوموں کی کہانیاں بیان کر کے نبی ﷺ کی رسالت کی تصدیق کی گئی۔

مرکزی خیال

سورۃ الشعراء کا خلاصہ ‘سابقہ انبیاء کرام کے واقعات کے ذریعے مسلمانوں کو تسلی دینا’ ہے۔

اہم مضامین

آغاز
اس سورت کا آغاز حضرت محمد ﷺ کو تسلی دینے سے ہوتا ہے۔
حوصلہ دینے کا ذکر
پھر انبیاء کرام علیہم السلام کا اپنی قوموں کو ثابت قدمی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دعوت دینے کا ذکر ہے۔
اللہ تعالیٰ کی دعوت قبول کرنے اور نہ کرنے والوں کا انجام
اس سورت میں اس دعوت کو قبول کر لینے کے نجات پانے اور نافرمانوں پر دنیا میں بھی عذاب اتارے جانے کا ذکر ہے۔
حضرت محمد ﷺ کو تسلی
سورۃ الشعراء میں آغاز میں اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو صبر اور حوصلے کی تسلی دیتے ہیں۔ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کی دعوت پر لوگ یقین نہ کریں تو فکر نہ کریں۔
مشرکینِ مکہ و نافرمانوں کا انجام
سورۃ الشعراء میں مشرکینِ مکہ اور نافرمانوں کو متوجہ کیا گیا کہ ماضی کی قوموں جیسے قومِ نوح، عاد، ثمود، فرعون اور لوط کی طرح اللہ کا عذاب ان پر بھی آ سکتا ہے۔
شاعروں کا بیان
سورۃ الشعراء کے آخر میں شاعروں کی عمومی کمزوریاں بیان کی گئی ہیں کہ زیادہ تر شاعر صرف تفریح اور فریب کے لیے شاعری کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اچھے شاعر وہ ہیں جو اللہ کی طرف سے ہدایت پاتے ہیں اور حق و باطل کی تمیز کے ساتھ اپنی شاعری کرتے ہیں۔

علمی و عملی نکات

قرآن کتاب ہدایت
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک روشن کتاب ہے۔ حدیث میں زندگی گزارنے کے واضح اصول موجود ہیں۔ (سورۃ الشعراء: 4)
عربی زبان کی اہمیت
ہمیں عربی زبان سیکھنی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے۔ (سورۃ الشعراء: 194)
اہل خانہ کی تبلیغ
ہمیں اپنے رشتہ داروں کو شرک اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے باز رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ یہ حضرت محمد ﷺ کا طریقہ ہے۔ (سورۃ الشعراء: 214)
ایمان والوں سے حسن سلوک
ہمیں ایمان والوں سے بہت شفقت اور تواضع سے پیش آنا چاہیے۔ (سورۃ الشعراء: 215)
شیطان اور برے لوگ
شیطان جھوٹے اور گنہگار لوگوں کا ساتھی ہے۔ (سورۃ الشعراء: 221-223)
جھوٹے شعراء
جھوٹے شاعروں کی پیروی کرنے والے عموماً گمراہ لوگ ہوتے ہیں۔ (سورۃ الشعراء: 224)
اچھے شعراء کی صفات
ایمان لانا، نیک اعمال کرنا، اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور ظالموں کو جواب دینا اچھے شاعروں کی صفات ہیں۔ (سورۃ الشعراء: 227)

کثیرالانتخابی سوالات

آیت کے لحاظ سے لمبی ترین سورت ہے
سورت شعراء کے آخر میں صفات بیان کی گئی ہیں
جھوٹے اور گناہگاروں کا ساتھی ہوتا ہے
عموماً جھوٹے شاعروں کی پیروی کرتے ہیں

مختصر سوالات

سورت الشعراء کو یہ نام کیوں دیا گیا؟˅
اس سورت میں اچھے اور برے شاعروں کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں اس لیے اس سورت کا نام سورۃ الشعراء ہے۔
سورت الشعراء کا خلاصہ کیا ہے؟˅
سورۃ الشعراء کا خلاصہ 'سابقہ انبیاء کرام کے واقعات کے ذریعے مسلمانوں کو تسلی دینا' ہے۔
سورت الشعراء کے دو علمی و عملی نکات لکھیں؟˅
1) شیطان جھوٹے اور گناہ گاروں کا ساتھی ہے۔ 2) گمراہ لوگ عموماً جھوٹے شاعروں کی پیروی کرتے ہیں۔